Home / General / !آج کل کے لمبے لمبے وظائف اور نبی ﷺ کا وظیفہ

!آج کل کے لمبے لمبے وظائف اور نبی ﷺ کا وظیفہ

ایک صحابی آئے یارسول اللہ تنگی ہے رزق کی وظیفہ بتائیں،کتنے لمبے لمبے وظیفے لوگ پڑھ رہے ہیں کہ کاروبار کھل جائے روزی بڑھ جائے کتنے لمبے چوڑے کتنے کتابوں میں اتنے لمبے لمبے وظائف لکھے ہوئے ہیں پڑھ پڑھ انسان بوڑھا ہو جائے۔میں قربان جاؤں یارسول اللہ آپ کی شفقتوں پر آپ کی رحمتوں پر میری بات نہیں ہے میرے نبی ﷺ کی بات ہے۔تجربے کی وجہ سے کرو گے تو کچھ نہیں ملے گا یقین سے کرو گے تو دروازے کھلتے دیکھو گے۔صحابی نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میری روزی کھل جائے،آپﷺ نے فرمایا:تو باوضو رہا کر تیرا رزق کھل جائے گا،کوئی زور لگتاہے وضوپر۔

سردیوں میں کچھ لوگ پانی ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے وضو سے گریز کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں کرنا چاہئے اس کا کوئی حال تلاشنا چاہئے،پانی کو گرم کریں یا پانی کی اس ٹھنڈک کو برداشت کریں اور وضو کریں ، اس ٹھنڈے پانی سے وضوکرنے سے ثواب میں اضافہ ہوگا اللہ پاک فرمائے گا میرے بندے نے میری خاطر اذیت برداشت کی رحمتوں کا ایک در کھول دیا جائے گا۔ ہاں اگر ٹھنڈے پانی کی وجہ سے بیماری کا اندیشہ ہے تو گرم کیجئے اگر گرم کرنے کی سہولت نہ ہو تو بھر اس اندیشے کو نظر انداز کیجئے اور وضو کیجئے وضو نماز کے لئے ضروری ہے۔

اور باقی عبادات بھی اگر وضو کے ساتھ کی جائیں تو افضل ہے۔اللہ کا ذکر کیجئے تو وضو کے ساتھ ۔ وضو کے بغیر بھی مسئلہ کوئی نہیں لیکن جب وضو کر کے اللہ کا ذکر کریں گے تو فرشتے خوش ہوں گے اور اللہ سے آپ کی سفارش کریں گے کہ یا اللہ تیرا یہ بندہ اہتمام کے ساتھ تیرا ذکر کر رہا ہے اس کی مرادوں کو بر لائیے اس کی خواہشات کو پورا کیجئے ، اس کے مسائل و تکالیف کو دور فرمائیے،اس کی دنیاوی زندگی بھی آسان فرمادیجئے اور اُخروی زندگی کے لئے بھی اچھا فیصلہ فرمائیے۔ اللہ کریم اپنے فرشتوں کی سفارش کو کبھی نہیں ٹھکراتا۔تو ایسے کام کیجئے کہ فرشتے بھی آپ کی سفارش کرنے پر مجبور ہوجائیں فرشتے بھی آپ کے ہمدرد بن جائیں۔شکریہ۔

اپنی بیوی کویہ 4 باتیں کبھی مت بتا نا ورنہ طلاق پکی ہے ۔۔! حضرت علی ؓ نے فرمان

دوستو دنیا میں بے شمار انسان پیدا ہوئے جن میں اکثر ایسے ہوئے کہ ان میں کوئی کمال اور خوبی نہیں اور بعض لوگ ایسے ہوئے جو صرف چند خوبیاں رکھتے تھے مگر حضرت علی المرتضیٰ وہ ذات گرامی جو بہت سے کمال اور خوبیوں کے مالک ہیںامیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیر سب مفکرین اور دانشور متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے جس کسی نے اس عظیم انسان کے کردار گفتار اور اذکار پر غور کیا وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے بھی جب امام المتقين کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔اس کے علاوہ انہوں نے دیکھا کہ آپ کمال طہارت جادو بیانی حرارت ایمانی بلند حکمتی نرم خوئی جیسی صفات بھی موجود ہے کیونکہ اب شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بھی حضرت علی کرم اللہ وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت ابوطالب کے بیٹے تھے۔

اور بچپن ہی سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ تربیت پائی خواتین و حضرات جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سب سے پہلے حضرت علی نے لبیک کہا اور اسلام کو قبول فرمایا اس وقت آپ کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی آپ کو شجاعت کے علاوہ علم و فضل میں بھی کمال حاصل رہا آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے ایک مشہور حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہےحضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ لوگوں سے اکثر فرمایا کرتے تھے پوچھو جو پوچھنا ہے پیشتر اس کے کہ لوگوں میں نہ رہوں پوچھنے والے پوچھتے رہے اور حضرت علی بتا تے رہے ایک مرتبہ کا زکر ہے۔

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے امیر المومنین میرے اور میری بیوی کے درمیان محبت نہیں ہے پیار نہیں ہے وہ ذرا ذرا سی بات پر مجھ سے ناراض ہو جاتی ہے بات بات پر جھگڑا کرنے لگتی ہے یا امیرالمومنین ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے اے شخص چار ایسی باتیں ہیں جن کا ذکر تو اپنی بیوی کے سامنے کبھی مت کرنا وہ شخص گویا ہوا اے امیر المومنین کو کون سی چار باتیں ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالی نے فرمایا۔کہ تم کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اپنی کسی پریشانی کی وجہ سے مت رونا ورنہ تم بیوی کی نظروں میں ایک کمزور ترین انسان کہلائو گے اور دوسری بات یہ ہے کہ۔

اس کی ہر جائز حاجت پوری کرو ہر جائز مراد پوری کرو مگر اپنی آمدنی کے متعلق اسے کبھی مت بتانا آپ نے فرمایا ہے اے شخص کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اپنے ماں باپ اپنے بہن بھائیوں کی برائی مت کرنا ورنہ بیوی کی نظروں میں تمہارے ماں باپ اور بہن بھائی کی عزت ختم ہو جائے گی اور چوتھی بات یہ کہ کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اس کے ماں باپ اور اس کے بھائیوں کو اس کی بہنوں کو برا بھلا بھی مت کرنا ورنہ وہ تمہاری دشمن بن جائے گی یہ چار باتیں کبھی بھی اپنی بیوی کے ساتھ مت کرنا تو خواتین و حضرات آپ کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے فرمان اچھے لگے ہوں تو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ شئیر ظرور کریں۔

About admen

Check Also

Foods Full of Minerals

Every person should take care of his body since your body belongs to the One …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Powered by moviekillers.com